ممبئی،2/جنوری(ایس او نیوز/یو این آئی) ہزاروں کروڑ روپے کے مقروض بھگوڑے شراب کے کاروباری وجئے ملیا کو زبردست جھٹکا دیتے ہوئے منی لانڈرنگ معاملوں میں یہاں کی ایک خصوصی عدالت نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی)کی قیادت والے گروپ کو ملیا کی ضبط کی گئی جائیدادوں کو نیلام کرنے کی اجازت دے دی ہے -ملیا پر مختلف بینکوں کا گیارہ ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا قرض ہے اوراسے معاشی بھگوڑا قرار دیا جاچکا ہے -منی لانڈرنگ قانون (پی ایم ایل ایل)عدالت نے ملیا کی جائیداد بیچنے کے فیصلے پر18جنوری تک روک لگادی ہے -یہ پابندی متعلقہ فریقوں کو بامبے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لئے دیئے گئے بیان کے لحاظ سے لگائی گئی ہے -ملیا کے اوپر سب سے زیادہ قرض اسٹیٹ بینک آف انڈیا کا ہے - انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی) نے عدالت سے کہا تھا کہ اسے وصولی سے کوئی اعتراض نہیں ہے - ملیا کے وکیلوں کو اعتراض تھا کہ یہ صرف قرض وصولی عدالت ہی طے کرسکتی ہے -بینکوں کا تقریباً9ہزار کروڑ روپے کا قرض نہ دینے اور جعل سازی اور منی لانڈرنگ معاملے میں ملیا فی الحال برطانیہ میں مقدموں کا سامنا کررہا ہے - ملیا کے معاملے میں لندن کی عدالت نے فیصلہ محفوظ رکھا ہے اور اس ماہ میں فیصلہ آسکتا ہے -